اداریہ
امن کانفرنس
29 أغسطس 2017 - 14:58
|
آخر تحديث 29 أغسطس 2017 - 14:58
تابع قناة عكاظ على الواتساب
عکاظ اردو جدہ
مکہ مکرمہ ، امن کانفرنس کے لئے بلد امین سے زیادہ مناسب جگہ اورکون سی ہو سکتی ہے جس خطۃ کو اللہ سبحانہ تعالی نے امن کا شہر قرار دیا ہو وہاں امن کانفرنس امن کی کوششوں کی طرف ایک اور مثبت قدم ہے جس سے پورے خطہ میں امن کے بازیاب ہونے کی پوری توقع کی جاسکتی ہے۔ مکہ مکرمہ کے لئے سیدنا ابراہیم علیہ سلام کی دعائیں بھی ہیں اور مکہ ہی وہ شہر ہے جہاں حج کے موقع پر تمام عالم اسلام سے لوگ جوق درجوق دیوانہ وار اللہ کی محبت میں طواف کعبہ اور مناسک حج کی ادائیگی کے لئے بلالحاظ رنگ ونسل ، بلاتفریق تہذیب و تمدن صرف اور صرف اللہ کی رضا اورخوشنودی کے لئے اپنی جان ومال کے ساتھ حاضر ہوجاتے ہیں یعنی یہ کہنا درست ہوگا کہ مکہ مکرمہ اسلامی اتحاد و اتفاق کی اہم ترین علامت ہے۔ اس متبرک مقام پر اگر دین کے مفکرین صلحا، وعلما پورے اخلاص کے ساتھ قومی اتحاد کے وسیع پیمانے پر کوششوں کے لئے سرجوڑ کر بیٹھیں تو کیا عجب ہے کہ اللہ ان کی ان کوششوں کو بارآور کردے۔ خادم حرمین شریفین کی شب وروز امن مساعی میں چار ذی القعدہ کو منعقد ہونے والی یہ کانفرنس ایک خوبصورت اضافہ ہے ۔ حج کے موقع پر منعقدہ اس کانفرنس کی کامیابی کے دور رس نتائج برآمد ہونگے، پوری دنیا تک ایک مثبت پیام جاے گا۔ پھر علامہ اقبال کی یاد آتے ہے کہ ’’ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے ۔۔ نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاک کاشغر‘‘ اللہ ان کوششوں کو تکمیل تک پہنچاے اور امن وامان کے اس خواب کو وہ تعبیر دے کہ دنیا مسلمانوں کے اتحاد کی مثال دے سکے ۔


